کتابیں

شائع شدہ کتابیں، تازہ ترین پہلے۔

قارئین اور اہلِ علم کی رائے

  • کتاب "واپسی" کا مطالعہ میرے لیے محض ایک ادبی تجربہ نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی سفر ثابت ہوا۔ اسماعیل حاجی صاحب نے جس سادگی، خلوص اور اثر انگیزی کے ساتھ انسانی زندگی کے نشیب و فراز، نفس کی کشمکش اور رب کی طرف رجوع کے احساس کو بیان کیا ہے، وہ قاری کو ابتدا ہی سے اپنے ساتھ جوڑ لیتا ہے۔

    اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسان کے اندر برپا ہونے والی خاموش جنگ کی عکاسی کرتا ہے۔ زندگی کی بھاگ دوڑ، خواہشات کی کشش، غلط فیصلوں کے نتائج، پچھتاوے کی کیفیت اور پھر ہدایت و واپسی کی امید کو مصنف نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مطالعے کے دوران کئی مقامات ایسے آئے جہاں یوں محسوس ہوا جیسے یہ کہانی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ داستان ہے۔

    "واپسی" قاری کو محض تفریح فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے اپنے اعمال، ترجیحات اور زندگی کے مقصد پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو کسی کتاب کو وقتی مطالعے سے نکال کر ایک دیرپا اثر رکھنے والی تخلیق بنا دیتی ہے۔ اس کے کردار اور ان کے جذبات مطالعہ ختم ہونے کے بعد بھی ذہن میں زندہ رہتے ہیں اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اصل کامیابی دنیا کے حصول میں نہیں بلکہ اپنے رب کی رضا اور قربت کے حصول میں ہے۔

    مصنف کا اسلوبِ بیان سادہ، رواں اور دل میں اتر جانے والا ہے۔ انہوں نے پیچیدہ روحانی اور نفسیاتی کیفیات کو بھی ایسے انداز میں بیان کیا ہے کہ ہر طبقۂ فکر کا قاری ان سے خود کو وابستہ محسوس کرتا ہے۔ یہی فنی مہارت اس ناول کو ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسماعیل حاجی صاحب کے قلم میں مزید تاثیر اور برکت عطا فرمائے اور انہیں ایسی مزید اصلاحی، فکری اور روحانی رہنمائی فراہم کرنے والی تخلیقات پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو دلوں کو بیدار کریں اور انسان کو اپنے رب کی طرف لوٹنے کا شعور بخشیں۔

    عدنان محمود

    • ایم فل (کیمسٹری)
    • فاضلِ طب و جراحت (F.T.J)
    • بی ایڈ (B.Ed)
    • لیکچرر اِن کیمسٹری
    • ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، شعبۂ کیمسٹری
    • گورنمنٹ گریجویٹ کالج، کھاریاں
  • میں سمجھتی ہوں کہ ایک ہرن سو سال بعد بھی فقط ایک عام سا ہرن ہی رہے گا، کسی خرگوش کو تحلیل نفسی کا ہرگز کبھی خیال نہیں آۓ گا، مگر اس پوری کرہ ارض پر فقط ایک انسان ہی ایسی مخلوق ہے جو کل ایک انسان تھا، آج ایک اچھا انسان ہے اور آنے والے کل میں ایک بہترین انسان بننے کی پوری پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

    اس بات کی توجیح میں پیش کرنے کو ہمارے اردگرد کئی ایک مثالیں موجود ہیں جن میں سے ایک مثال اسماعیل حاجی کی ہے۔ انہوں نے اپنے اندر کے درد کو اور معاشرے سے تجربات کو اکھٹے کر کے جس طرح مشاہدہ کیا پھر ان مشاہدات کو جس طرح لفظوں کے موتیوں میں پرویا ہے اس کی مثال ملنا بہت مشکل ہے۔

    زیادہ تر لوگ اپنی زندگی کے دکھوں اور مشکلوں سے گبھرا کر منفی انداز فکر کے اژدہے پال کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اپنے دکھ اور غم کو پراسیس کرنا اور ہینڈل کرنا ایک بہت بڑا کارنامہ ہوتا ہے۔ زندگی کے مسائل کے ساتھ چلتے چلتے ایک مثبت رخ پر چل پڑنا اور پھر خود کو معاشرے کا تعمیری، منفرد انسان بنانا اور اپنے آپ کو کسی مقام اولی پر لے جانا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اتنی کم عمری میں اسماعیل حاجی نے اپنے آپ کو اس بلند مقام پر لایا ہے اور مصنف ہونے کا ٹائٹل ان کو ملا ہے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔

    اب ان کی دوسری کتاب "تم پر لکھی شاعری" شائع ہو رہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ ان کی پہلی کتاب "محبت سے نفرت تک" کی طرح انشاءاللہ یہ بھی ادب کا بہترین شاہکار ہوگی۔

    پورے خاندان میں شاید کوئی ایک ہی کتاب لکھنے پر قادر ہو پاتا ہو تو ایک مصنف یا شاعر ہونا ایک بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ کتاب ایک ایسی چیز ہے کہ جو رہتی دنیا تک قائم رہتی ہے تو ایک مصنف یا شاعر کی لسٹ میں نام آ جانا ہی بہت اعزاز کی بات ہوتی ہے۔

    میں اسماعیل حاجی کو مبارکباد پیش کرتی ہوں اور اس بات کی خواہش مند ہوں کہ اللہ پاک ان کو اپنے ادبی سفر میں مزید ترقی اور کامیابی عطا فرمائے۔ آمین

    عفت نذیر خان

    • اسپیشل ایجوکیشنسٹ، سائیکالوجسٹ
    • این ایل پی ماسٹر پریکٹیشنر، مصنفہ
  • اس دنیا کی اساس محبت ہے۔ اس کائنات کے راز محبت میں پنہاں ہیں۔ محبت اور نفرت دو ایسے جذبات ہیں کہ اگر ان کو صحیح سمت نہ ملے تو یہ آپ کی زندگی کو تباہ بھی کر سکتے ہیں اور سنوار بھی سکتے ہیں۔ اسماعیل حاجی نے اپنی کتاب "محبت سے نفرت تک" میں بہت خوبصورتی سے ان جذبات کو مختلف ابواب میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہر انسان محبت کو مختلف انداز میں تجربہ کرتا ہے۔ لیکن محبت کی روح ایک ہی ہوتی ہے۔

    مصنف نے ایک موضوع "عورتیں مجھ پر برس پڑیں" میں عورتوں کے لئے "طوائف" کا لفظ استعمال کیا تو اس پر صنفِ نازک کی طرف سے اعتراضات ہوئے۔ لیکن جب انہی لوگوں نے باقی ابواب کا مطالعہ کیا تو انھوں نے جانا کہ مصنف تو عورتوں کی بہت عزت کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ کوئی عورت کی عزت کیسے کرتا ہے۔ وہ چند مخصوص عورتیں یا مرد جو اس طرح کی حرکات میں ملوث پائے جاتے ہیں ان کو موضوعِ بحث بنایا گیا تھا۔

    موضوع "محبت میں مرد کا رسک" تو یہ بات سو فیصد درست ہے کہ مرد شروع میں ہی اس بات کا فیصلہ کر لیتا ہے کہ اسے اس لڑکی سے شادی کرنی ہے یا نہیں۔

    بدقسمتی سے ہماری نوجوان نسل انتہائی خوبصورت جذبے محبت میں ڈپریشن کا شکار ہو کر خودکشیاں تک کر رہی ہے کیونکہ انہیں اس تصور کا صحیح معنوں میں علم ہی نہیں ہے۔ کتاب "محبت سے نفرت تک" میں مصنف نے محبت اور لمیرنس یعنی ہوس کو بہت اچھے انداز میں بیان کیا ہے کہ ہوس، عادت، وقتی اٹریکشن، وقت گزاری جیسی چیزوں کو نوجوان نسل محبت کا نام دے کر نہ صرف اس احساس اور جذبے کو بدنام کر رہی ہے بلکہ عادت اور ہوس کو محبت سے منسوب کر کے اپنی اور دوسروں کی زندگیاں بھی تباہ کر رہے ہیں۔

    امید ہے مصنف کی کتاب "محبت سے نفرت تک" کے مطالعے کے بعد نوجوان نسل کو شناخت کرنے میں آسانی ہو کہ محبت کے اس سفر میں وہ کس مقام اور کس کیٹگری میں شامل ہیں۔

    مصنف اسماعیل حاجی کو محبت جیسے نازک اور اہم موضوع پر کتاب لکھنے پر ذاتی طور پر مبارک باد پیش کرتی ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ انہیں نوجوان نسل کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کی رہنمائی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

    فرحت نسیم

    • مصنفہ
    • کالم نگار
    • ٹیچر
  • جب لکھنے کی اہمیت کی بات کی جاتی ہے تو مختلف لوگوں کی مختلف رائے ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اپنے تجربات اور پھر ان کا بہتر طور پر تجزیہ کرنا اور اس کے بعد کچھ لکھنا نہ صرف خود کے لئے بلکہ دوسروں کے لئے بھی کسی نہ کسی انداز سے فائدہ مند رہتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی 250 صفحوں کی کتاب کے کسی ایک صفحے پر لکھی کوئی ایک لائن کسی کی پوری زندگی کی سمت بدل دے۔ کوئی ایک لائن کسی کو زندگی کے پھنسے ہوئے گرداب سے نکال دے اور آپ کو اس کا ثواب قیامت تک ملتا رہے۔

    لکھنے کے لئے عمر کی کوئی حد نہیں ہے، آپ کسی بھی عمر میں لکھ سکتے ہیں، بس آپ میں اپنے تجربات اور اپنے آس پاس کا باریک بینی سے جائزہ لینا آتا ہو۔

    اسی طرح کے ایک نوجوان اسماعیل حاجی نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام "محبت سے نفرت تک" ہے۔

    نام سے لگتا ہے کہ یہ کوئی ناول کی طرز کی کتاب ہوگی اور صرف محبت اور نفرت کی بات کی گئی ہوگی، لیکن جب کتاب کو پڑھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں زندگی اور معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

    ویسے تو اس طرح کے موضوع پر لکھتے ہمیشہ بڑوں کو دیکھا گیا، لیکن اگر اس پر کوئی نوجوان لکھے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے زندگی کے مختلف پہلوؤں کی شدت کو بہت قریب سے محسوس کیا ہوگا۔

    اس نوجوان کے الفاظ سے لگتا ہے کہ یہ معاشرے میں رہنے والے لوگوں، خاص طور پر نوجوانوں کو کچھ بتانا چاہتا ہے، کچھ دکھانا چاہتا ہے اور ان کو کسی نقصان سے بچانا چاہتا ہے، اس لئے بڑوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

    اسماعیل حاجی، اللّٰہ تعالیٰ آپ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے معاشرے میں رہنے والے لوگوں کے لئے بہتری اور بھلائی کا سبب بنائے۔ آمین۔

    لطیف رحمانی

    • لیکچرر سائیکالوجی
  • اس کتاب کے مصنف اسماعیل حاجی کے ساتھ میرا ایک پرانا اور عقیدت کا رشتہ ہے۔ پچھلے دنوں انہوں نے مجھے یہ کتاب بھیجی۔ پہلے تو خوشی ہوئی کہ ادبی دنیا میں ان کا یہ تیسرا اضافہ ہے، لیکن کتاب پڑھنے کے بعد یہ خوشی ایک گہرے احساس میں بدل گئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے ہم کسی اور کی کہانی نہیں بلکہ اپنی ہی زندگی کے کسی بھولے ہوئے باب سے گزر رہے ہوں۔

    مصنف نے انسانی نفسیات، رشتوں کی نزاکت، جذبات کی کشمکش اور امید کی روشنی کو نہایت خوبصورتی سے الفاظ کا روپ دیا ہے۔ تاہم اس کتاب کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ یہ صرف ایک انسان کی ظاہری زندگی کی کہانی نہیں سناتا بلکہ اس کے باطن کا سفر بیان کرتا ہے۔ میری نظر میں "واپسی" ان کتابوں میں شامل ہے جو قاری کو صرف ایک کہانی نہیں سناتیں بلکہ اسے اپنے اندر جھانکنے، اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے اور اپنے رب کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتی ہیں۔ مطالعہ ختم ہونے کے بعد بھی اس کے کردار، اس کے احساسات اور اس کا پیغام دیر تک قاری کے دل و دماغ میں زندہ رہتا ہے۔

    "واپسی" اپنے فنی حسن، رواں بیانیے، فکری گہرائی اور روحانی تاثیر کے باعث قاری کو ابتدا سے اختتام تک اپنے حصار میں رکھتی ہے۔ یہی خوبی ایک کامیاب کتاب کو عام کتاب سے ممتاز کرتی ہے۔

    میری دعا اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی مصنف کے قلم سے ایسے ہی فکر انگیز، اصلاحی اور دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کرنے والے شاہکار تخلیق ہوتے رہیں۔

    محمد وقاص

    • این ایل پی ٹرینر
    • لائف کوچ
    • مصنف
    • پاکستان ائیر فورس (ریٹائرڈ)