جب لکھنے کی اہمیت کی بات کی جاتی ہے تو مختلف لوگوں کی مختلف رائے ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اپنے تجربات اور پھر ان کا بہتر طور پر تجزیہ کرنا اور اس کے بعد کچھ لکھنا نہ صرف خود کے لئے بلکہ دوسروں کے لئے بھی کسی نہ کسی انداز سے فائدہ مند رہتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی 250 صفحوں کی کتاب کے کسی ایک صفحے پر لکھی کوئی ایک لائن کسی کی پوری زندگی کی سمت بدل دے۔ کوئی ایک لائن کسی کو زندگی کے پھنسے ہوئے گرداب سے نکال دے اور آپ کو اس کا ثواب قیامت تک ملتا رہے۔
لکھنے کے لئے عمر کی کوئی حد نہیں ہے، آپ کسی بھی عمر میں لکھ سکتے ہیں، بس آپ میں اپنے تجربات اور اپنے آس پاس کا باریک بینی سے جائزہ لینا آتا ہو۔
اسی طرح کے ایک نوجوان اسماعیل حاجی نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام "محبت سے نفرت تک" ہے۔
نام سے لگتا ہے کہ یہ کوئی ناول کی طرز کی کتاب ہوگی اور صرف محبت اور نفرت کی بات کی گئی ہوگی، لیکن جب کتاب کو پڑھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں زندگی اور معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
ویسے تو اس طرح کے موضوع پر لکھتے ہمیشہ بڑوں کو دیکھا گیا، لیکن اگر اس پر کوئی نوجوان لکھے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے زندگی کے مختلف پہلوؤں کی شدت کو بہت قریب سے محسوس کیا ہوگا۔
اس نوجوان کے الفاظ سے لگتا ہے کہ یہ معاشرے میں رہنے والے لوگوں، خاص طور پر نوجوانوں کو کچھ بتانا چاہتا ہے، کچھ دکھانا چاہتا ہے اور ان کو کسی نقصان سے بچانا چاہتا ہے، اس لئے بڑوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
اسماعیل حاجی، اللّٰہ تعالیٰ آپ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے معاشرے میں رہنے والے لوگوں کے لئے بہتری اور بھلائی کا سبب بنائے۔ آمین۔